ملک بھر میں ٹرانسپورٹ پر عائد پابندی ختم ہونے کا امکان، وفاقی حکو مت نے مسافر گاڑیوں کے لئے رہنما اصول جاری کردیے…

ملک بھر میں ٹرانسپورٹ پر عائد پابندی ختم ہونے کا امکان، وفاقی حکو مت نے مسافر گاڑیوں کے لئے رہنما اصول جاری کردیے.. مسافر گاڑی میں میڈیکل ماسک ا ور ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال کیا جائے، گاڑیوں میں ایئر کنڈیشننگ کا استعمال نہیں ہونا چاہئے، ونڈوز اسکرینوں کو تازہ ہوا کے گزر کے لئے کھلا رکھنا ضروری ہے

اسلام آباد  ملک بھر میں ٹرانسپورٹ پر عائد پابندی ختم ہونے کا امکان، وفاقی حکو مت نے مسافر گاڑیوں کے لئے رہنما اصول جاری کردیے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی حکو مت نے ٹریفک کے لیے رہنما اصول جاری کرتے ہوئے عوام سے کہا ہے کہ وہ ٹریفک کی سہولت کا استعمال انتہائی ضرورت پڑنے پر کریں، دورا ن سفر احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد لازم ہو کریں۔
حکومت نے ہدایت کی ہے کہ ٹرانسپورٹرز سواری بٹھانے سے پہلے اور اُتارنے کے بعد گاڑی کو ڈس انفیکٹ کریں۔ اس کے علاوہ جو ہدایات جاری کی گئی ہیں ان کے مطابق مسافر گاڑی میں میڈیکل ماسک ا ور ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال کیا جائے، گاڑیوں میں ایئر کنڈیشننگ کا استعمال نہیں ہونا چاہئے، ونڈوز اسکرینوں کو تازہ ہوا کے گزر کے لئے کھلا رکھنا ضروری ہے۔
حکومت کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ مسافروں کو ایک دوسرے کے قریب قریب نہیں بٹھائیں، جسمانی حرارتی اسکیننگ کو یقینی بنایا جائے۔ ڈرائیوروں کو سفر کے دوران ماسک اور دستانے پہننے چاہئیں، بسوں کے اندر ٹشو پیپر اور سینیٹائزرکی فراہمی کو یقینی بنایا جائے ۔ اس سے قبل  وزیراعظم
عمران خان نے 9 مئی بروز ہفتے سے لاک ڈاؤن کھولنے کا اعلان کردیا۔انہوں نے کہا کہ تمام شعبوں میں مرحلہ وار لاک ڈاؤن کھول دیں گے، صوبوں کے ساتھ ملکر فیصلہ کیا کہ اب کچھ آسانیاں پیدا کرنی ہیں، پاکستان میں شرح اموات بڑ ھ رہی ہے، لیکن نچلا طبقہ بڑی مشکل میں، حکومت تمام متاثرین کو پیسا نہیں دے سکتی، لہذ اعقلمندی سے لاک ڈاؤن کھولنا ہے۔ انہوں نے قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان میں 26 فروری کو پہلا کورونا کیس رپورٹ ہوا، پھر 13مارچ کو ہم نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ملک بھر میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا، کیونکہ اس وائرس کی دو تین کوالٹی ہے ، ایک یہ کہ یہ وائرس تیزی سے پھیلتا ہے، اس وائرس کی طرح کوئی دوسرا وائرس اتنی تیزی سے نہیں پھیلتا، دنیا نے سماجی فاصلے کیلئے لاک ڈاؤن کیا، ہم نے بھی دنیا کی طرح پاکستان میں لاک ڈاؤن کیا۔
ہمیں لاک ڈاؤن کرتے وقت خوف تھا کہ ملک میں 80 فیصد طبقہ غریب ، دیہاڑی اور مزدوروں کا کیا بنے گا؟ہم دنیا میں اس کو فالو کررہے تھے، امریکا میں دن میں 2 ہزار ، برطانیہ میں 800 لوگ مررہے تھے، اسی طرح اسپین ، اٹلی میں اموات ہورہی تھی، اس کو دیکھتے ہوئے ہم نے نیشنل کمانڈ کنٹرول آپریشن سنٹر بنایا ، اسد عمر کی سربراہی میں چاروں صوبے روزانہ کی بنیاد پر کورونا کی صورتحال دیکھ کر مستقبل کے فیصلے کرتے ہیں، اللہ کا شکر ہے کہ دنیا کے امیرممالک کی طرح پاکستان پر ویسا دباؤ نہیں پڑا۔
Share This:

Leave a Comment